بالآخر، پرندے نے اپنی ہمت نہیں ہاری اور شام تک اپنا گھونسلا کامیابی سے مکمل کر لیا۔ اس نے ثابت کر دیا کہ مستقل مزاجی ہی کامیابی کی اصل کنجی ہے۔
جب وہ پھل لے کر واپس آیا تو اسے سمجھ آیا کہ اصل کامیابی پھل میں نہیں بلکہ اس سفر اور محنت میں تھی جو اس نے راستے میں کی تھی۔